
قصور کے صحافتی ہیرو صابر علی بابر رخصت، منیحہ صابر نے والد کا صحافتی ورثہ سنبھال لیا
قصور: کھڈیاں خاص سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی صابر علی بابر چند روز قبل ہم سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کی زندگی بھر کی اصولی صحافت، بے باکی اور مظلوموں کے لیے آواز اٹھانے کا انداز آج بھی ان کے حلقۂ احباب، صحافتی برادری اور اہلِ علاقہ کی یادوں میں زندہ ہے۔
صابر علی بابر ان صحافیوں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے صحافت کو محض پیشہ نہیں بلکہ ذمہ داری اور اصول سمجھ کر نبھایا۔ وہ نہ دباؤ سے مرعوب ہوتے تھے اور نہ اپنے مؤقف کے بدلے کسی مفاد کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کی صحافتی زندگی کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے دولت کے بجائے عزت، اعتماد اور اصولی کردار کو اپنا سرمایہ بنایا۔
وہ اپنی اہلیہ سے متعدد مواقع پر یہ بات بھی بیان کرتے رہے کہ انہوں نے صحافت کے ذریعے پیسہ نہیں کمایا، بلکہ اپنی زندگی میں عزت کمائی۔ یہی سوچ ان کی شخصیت کا وہ پہلو تھی جس نے انہیں اپنے ساتھی صحافیوں اور عام شہریوں کے درمیان ایک الگ مقام دیا۔
صابر علی بابر مظلوم اور کمزور طبقے کے ساتھ کھڑے ہونے کو صحافت کی بنیادی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ ان کی بے باکی، صاف گوئی اور اصولوں پر ثابت قدمی نے انہیں کھڈیاں خاص اور قصور کے صحافتی حلقوں میں ایک قابلِ احترام نام بنایا۔
صحافتی ورثہ اب بیٹی کے ہاتھوں
صابر علی بابر کے انتقال کے بعد ان کی صاحبزادی منیحہ صابر نے اپنے والد کے صحافتی اور فکری ورثے کو آگے بڑھانے کی کوشش شروع کی ہے۔ اپنے والد کے بارے میں ان کی تحریروں اور کھڈیاں خاص کے حوالے سے ان کی آواز کو مقامی صحافیوں اور شہریوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملنا اس بات کی علامت ہے کہ صابر علی بابر نے جو اعتماد اور احترام اپنی زندگی میں حاصل کیا، وہ ان کے بعد بھی قائم ہے۔
منیحہ صابر کی تحریریں محض اپنے والد کی یاد نہیں بلکہ ایک ایسی شخصیت کی جدوجہد کو محفوظ کرنے کی کوشش بھی ہیں جس نے اپنی زندگی میں صحافت کے بنیادی اصولوں سے سمجھوتہ نہ کرنے کو ترجیح دی۔
صابر علی بابر کا بیٹا نہ ہونے کے باوجود ان کی صاحبزادی کا اپنے والد کے نام، سوچ اور صحافتی ورثے کو آگے بڑھانے کے لیے سامنے آنا ایک قابلِ احترام عمل ہے۔
صابر علی بابر آج ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کے اصول، ان کی آواز اور ان کی دی ہوئی صحافتی میراث باقی ہے۔
کھڈیاں خاص کے لیے وہ ایک صحافی تھے، قصور کے لیے ایک معتبر نام اور اصولی صحافت کے لیے ایک مثال۔
کچھ لوگ چلے جاتے ہیں، مگر اپنے کردار سے ایک ایسی جگہ بنا جاتے ہیں جو ان کے جانے کے بعد بھی خالی نہیں ہوتی۔ صابر علی بابر بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔
