
پتوکی میں شوہر اور سسر پر خاتون کو مبینہ تشدد کا الزام، میڈیکل رپورٹ کے باوجود مقدمہ درج نہ ہونے کا دعویٰ
پتوکی: قصور کے تھانہ سرائے مغل کی حدود میں واقع علاقے ہلہ میں ایک خاتون پر اس کے شوہر اور سسر کی جانب سے مبینہ تشدد کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
مقامی صحافی اختر ضیاء کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون، جس کا نام مریم بتایا گیا ہے، نے مبینہ تشدد کے خلاف میڈیکل معائنہ اور قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کو درخواست دی۔
درخواست کے مطابق خاتون کو اس کے شوہر اور سسر نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے باعث جسم کے مختلف حصوں پر چوٹیں آئیں۔ متاثرہ خاتون کی جانب سے واقعے کے بعد طبی معائنہ بھی کروایا گیا اور میڈیکل رپورٹ جاری ہونے کا بتایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 4 اگست کو درخواست دی گئی تھی، تاہم متاثرہ خاتون کا مؤقف ہے کہ مبینہ تشدد کے واقعے کو کئی روز گزرنے اور میڈیکل رپورٹ جاری ہونے کے باوجود تاحال پولیس کی جانب سے مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
متاثرہ خاتون نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، آئی جی پنجاب، آر پی او شیخوپورہ ریجن اطہر اسماعیل اور ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان سے واقعے کا فوری نوٹس لینے، انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
متاثرہ خاتون نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اگر پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کرنے میں مبینہ غفلت ہوئی ہے تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
نوٹ: خبر میں تشدد اور مقدمہ درج نہ ہونے سے متعلق تفصیلات متاثرہ خاتون کے مؤقف اور مقامی صحافی اختر ضیاء کی رپورٹ کی بنیاد پر شامل کی گئی ہیں۔ فریقین کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
