
پاکستان کے لیے اعزاز! میاں بیوی کا منفرد منصوبہ ’’قصور آرکائیوز‘‘ منظرِ عام پر آ گیا
قصور: پاکستان کے لیے اعزاز اور شہری سطح پر تاریخ و ثقافت کے تحفظ کی ایک منفرد مثال سامنے آ گئی۔ قصور چیمبر آف کامرس کے زیرِ اہتمام پروقار تقریب میں ’’قصور آرکائیوز‘‘ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا، جو شہر کی تاریخ، ثقافت، ادب اور قدیم ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے شہریوں کی اپنی مدد آپ کے تحت شروع کیا گیا ایک منفرد منصوبہ ہے۔
اس منصوبے کی خاص بات اس کے بانی امجد ظفر علی اور ان کی اہلیہ ارم اسد کی مشترکہ کاوشیں ہیں، جنہوں نے برسوں کی محنت سے قصور کے تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے کے اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔ تقریب میں دونوں کی خدمات کے اعتراف میں انہیں خصوصی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ منتظمین کے مطابق یہ قصور کی تاریخ و ثقافت کے لیے میاں بیوی کی مشترکہ خدمات کے اعتراف میں ایک منفرد اعزاز ہے۔
قصور آرکائیوز ایک جامع منصوبہ ہے جس کے ذریعے شہر کی تاریخی دستاویزات، نایاب تصاویر، نامور شخصیات کے حالاتِ زندگی، ادبی و ثقافتی ورثے اور تاریخی باقیات کو یکجا کرکے دستاویزی اور ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کیا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد نئی نسل کو قصور کی تاریخی شناخت سے روشناس کروانے کے ساتھ ساتھ محققین، تاریخ دانوں اور دنیا بھر میں قصور کے بارے میں جاننے کے خواہش مند افراد کو مستند تاریخی مواد تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
اس منصوبے کو منفرد بنانے والی بات یہ ہے کہ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اسے حکومتی سرپرستی یا فنڈنگ کے بجائے شہریوں کی اپنی مدد آپ کے تحت آگے بڑھایا گیا۔ قصور آرکائیوز اس بات کی مثال ہے کہ اپنے شہر کی تاریخ اور ثقافت سے محبت رکھنے والے افراد مشترکہ کوششوں کے ذریعے قومی ورثے کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
افتتاحی تقریب میں امجد ظفر علی اور ارم اسد کے علاوہ منصوبے کی کور ٹیم میں شامل ڈاکٹر انعم افتخار، سفیان شکیل رنگون والا اور دیگر ممبران کی خدمات کو بھی سراہا گیا اور انہیں ایوارڈز دیے گئے۔
قصور آرکائیوز کا منظرِ عام پر آنا نہ صرف قصور کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی جانب اہم قدم ہے بلکہ پاکستان میں شہری سطح پر تاریخ کو محفوظ کرنے کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید مثال بن سکتا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے قصور کی پہچان کو نئی نسل اور عالمی سطح پر متعارف کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
