
صحافت پر حملہ اور پولیس گردی ناقابلِ قبول، مقامی صحافی اختر کا مذمتی بیان
چونیاں: مقامی صحافی اختر نے اپنی فیس بک پوسٹ میں چیئرمین حافظ میڈیا گروپ صابر چودھری کی آڑھت پر مبینہ پولیس کارروائی کے معاملے پر سخت مذمتی بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں صحافتی آزادی، حقائق پر مبنی صحافت اور صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام سے واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔
اختر کی جانب سے اپنی فیس بک پوسٹ میں جاری کیا گیا مکمل بیان:
🚨 مذمتی بیان صحافت پر حملہ اور پولیس گردی ناپائیدار! 🚨
حق اور سچ کی آواز پر ڈاکہ منظور نہیں!
صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے اور سچ کا علم اٹھانے والے صحافیوں کی آواز اور قلم کو کسی بھی جابرانہ اقدام سے دبایا نہیں جا سکتا۔ حقائق پر مبنی خبروں کی پاداش میں صحافیوں پر دباؤ ڈالنا انہیں ہراساں کرنا اور سچائی کا گلا گھونٹنے کی کوشش کرنا انتہائی قابلِ افسوس۔ شرمناک اور آزادیٔ صحافت پر سیدھا حملہ ہے۔
📌 واقعہ کیا ہے؟
گزشتہ رات چیئرمین حافظ میڈیا گروپ صابر چودھری کی آڑھت پر پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر چھاپہ مارا گیا۔ ذرائع اور سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز کے مطابق اس کارروائی کی قیادت ایس ایچ او صابر چھینہ نفری کے ہمراہ کر رہے تھے۔دوسری جانب جب اس معاملے پر ایس ایچ او تھانہ سٹی چونیاں صابر چھینہ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا مؤقف تھا کہ یہ “جنرل ہولڈ اپ بسلسلہ عید میلاد النبیؐ” تھا جو پورے محلے میں کیا گیا۔
👈سوال یہ پیدا ہوتا ہے
کیا جنرل ہولڈ اپ اور روٹین چیکنگ کے نام پر ایک معروف صحافی ۔کاروباری اور ہر دلعزیز شخصیت کی آڑھت کو اس طرح نشانہ بنانا کس قانون کے تحت جائز ہے؟
📍چودھری صابر کوئی پوشیدہ يا نامعلوم شخصیت نہیں ہیں کہ روٹین چیکنگ کے نام پر ان کے گھر پر نفری چڑھا دی جائے۔کیا یہ روٹین کی کاروائی تھی یا سچ بولنے کی سزا۔ ہم آئی جی پنجاب۔ آر پی او شیخوپورہ ریجن اور ڈی پی او قصور سے زوردار مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کا فوری شفاف اور غیر جانب دارانہ اعلیٰ سطحی نوٹس لیا جائے۔افسران بالا خود انکوائری کروائیں کہ آیا یہ محض روٹین چیکنگ تھی یا ٹارگٹڈ پیش قدمی؟اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے اور صحافی برادری کو ہراساں کرنے میں ملوث اہلکاروں اور افسران کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔چند اہلکاروں کا یہ غیر قانونی اور آمرانہ رویہ پورے پولیس محکمے کی ساکھ اور نیک نامی کو داغدار کر رہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اعلیٰ حکام میرٹ اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے سخت سے سخت ڈیپارٹمنٹل ایکشن لیں گے۔قلم کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔صحافی برادری حق سچ اور صحافتی آزادی کے تحفظ کے لئے مکمل طور پر متحد اور بیدار ہے۔ قلم کو نہ پہلے روکا جا سکا ہے نہ آئندہ روکا جا سکے گا!
