
لیڈروں کے شہر کا انتہائی سنجیدہ مسئلہ
میرا پیارا شہر کھڈیاں، جہاں پر ہر جماعت کے پانچ چھ سو لیڈر تو معمولی بات ہے، لیکن افسوس یہ ہے کہ کارکن ختم ہو گئے، جو شہر کے کام کرواتے تھے، جو ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی تھے۔ ایک کا مسئلہ دوسرا اپنا سمجھتا تھا۔ نہ مساوات کا رواج رہا، نہ کسی کو کسی کا احساس رہا۔ ایک کا دکھ دوسرے کا دلی سکون بن گیا۔ رزق وافر ہوا تو پیار، خیر سگالی کے جذبے کی جگہ حسد اور بغض نے لے لی۔
شہر کے غریب اور درویش صفت لوگ، جو ساری ساری رات گلیوں میں پھر کر پتہ کرواتے کہ فلاں محلے میں پانی پہنچا یا نہیں، اور محبت ایسی کہ چیئرمینوں کو لوگ بازوؤں سے پکڑ کر کھینچتے پھرتے، لیکن پھر ہنستے مسکراتے چہرے کے ساتھ لوگوں کے مسائل حل کرواتے تھے۔
اب تو سیاست میں اتنی دوریاں ہیں کہ کمزور انسان اپنی تکلیف اور مسئلہ بیان کرتے ہوئے بھی ڈرتا ہے۔ کیا میرا یہ پیارا اور پُرسکون شہر اب انہی مسائل کا شکار رہے گا؟
