
قصور میں مبینہ مردار گوشت کی بڑی کھیپ برآمد، پولیس کی کارروائی کے بعد متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات
قصور: مقامی صحافی آصف عثمانی نے کے فار قصور کو بتایا ہے کہ تھانہ بی ڈویژن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں مبینہ مردار گوشت برآمد کیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد شہری حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر گوشت واقعی انسانی صحت کے لیے مضر تھا تو پنجاب فوڈ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ نگرانی کرنے والے ادارے اس تک پہلے کیوں نہ پہنچ سکے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ خوراک کی نگرانی اور غیر معیاری یا مضر گوشت کی روک تھام متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، اس لیے اس نوعیت کے معاملے میں ان اداروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اب عوام کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی گوشت کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری تجزیہ کرتی ہے یا نہیں، برآمد ہونے والے گوشت کی حقیقت کیا سامنے آتی ہے، اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کیا کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔
نوٹ: تاحال پنجاب فوڈ اتھارٹی یا دیگر متعلقہ اداروں کا اس معاملے پر باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ مؤقف موصول ہونے پر خبر میں شامل کر دیا جائے گا۔
