
وہ جو میں نے دیکھا… تقریباً اٹھائیس ماہ کا سفر — کاشف کھوکھر کی قلم سے
وہ جو میں نے دیکھا…
تقریباً اٹھائیس ماہ کا سفر… اور ایک حقیقت جو میرے دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئی۔
گزشتہ تقریباً اٹھائیس ماہ سے مجھے ایس۔ ایم۔ تنویر صاحب کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کا موقع ملا۔ اس دوران جو کچھ میں نے دیکھا، محسوس کیا اور سیکھا، وہی آج آپ سب کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
تنویر صاحب صرف ایک رہنما نہیں بلکہ اپنے عظیم والد ایس۔ ایم۔ منیر صاحب کے اُس وژن اور خدمت کے مشن کا عملی نمونہ ہیں، جس کا مقصد صرف اور صرف کاروباری برادری کی خدمت ہے۔ انہوں نے اس مشن کو نہ صرف سنبھالا بلکہ اسے مزید وسعت دی۔
ایسے موقع پر بے اختیار یہ شعر یاد آ جاتا ہے:
لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کر
اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کر
میں نے انہیں بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں سے لے کر خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک مسلسل سفر کرتے دیکھا۔ نہ موسم کی سختی دیکھی، نہ آرام کی پروا کی، نہ اپنی صحت کی فکر کی۔ ان کی ایک ہی سوچ تھی کہ ہر تاجر تک پہنچنا ہے، اس کے مسائل سننے ہیں اور ان کے حل کے لیے عملی کردار ادا کرنا ہے۔
میں اس بات کا بھی عینی شاہد ہوں کہ سوات کی سیلابی تباہ کاریوں سمیت دیگر آفت زدہ علاقوں میں کئی مواقع پر ایس۔ ایم۔ تنویر صاحب نے مجھے خدمت کی ذمہ داریاں سونپیں اور ہر ممکن تعاون کیا۔ یہی وہ لمحات تھے جب میں نے محسوس کیا کہ حقیقی قیادت صرف الفاظ سے نہیں بلکہ کردار اور عمل سے پہچانی جاتی ہے۔
اسی سفر میں، میں نے ایک اور حقیقت بھی دیکھی۔ ایس۔ ایم۔ تنویر صاحب نے صرف مسائل سننے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے حل کے لیے عملی قدم بھی اٹھایا۔ یہی سوچ بعد میں ایک عظیم پاکستان بزنس سمٹ کی صورت میں سامنے آئی، جہاں پورے پاکستان سے کاروباری برادری کے نمائندے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے۔
اس سمٹ کے انعقاد میں بھی میں نے وہی خلوص، وہی جذبہ اور وہی بے لوث خدمت دیکھی جو ابتدا سے ان کی شخصیت کا حصہ رہی ہے۔ ملک بھر سے آنے والے معزز مہمانوں کے سفر، رہائش اور دیگر تمام اخراجات اپنی ذمہ داری سمجھ کر برداشت کیے گئے، تاکہ ہر نمائندہ پوری یکسوئی کے ساتھ کاروباری برادری اور ملکی معیشت کے لیے اپنا کردار ادا کر سکے۔
اس قومی مشن میں ڈاکٹر گوہر اعجاز صاحب کی وسیع النظر قیادت، قومی سوچ اور کاروباری برادری کے لیے مخلصانہ جذبے نے بھی اس تحریک کو مزید مضبوط بنایا۔ جب قیادت کا مقصد ذاتی مفاد نہیں بلکہ قومی خدمت ہو تو ایسے لوگ ادارے نہیں بلکہ تاریخ رقم کرتے ہیں۔
آج ایس۔ ایم۔ تنویر صاحب کی مدبرانہ، مدلل اور جرات مندانہ قیادت اس جدوجہد کو ایک ایسی تحریک میں تبدیل کر چکی ہے جسے پورے پاکستان کی کاروباری برادری اپنی آواز سمجھتی ہے۔
ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حضرت علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے،
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔
اللہ تعالیٰ ایس۔ ایم۔ تنویر صاحب، ڈاکٹر گوہر اعجاز صاحب اور ان کے تمام رفقائے کار کو صحت، استقامت اور مزید توفیق عطا فرمائے، تاکہ وہ اسی خلوص، بصیرت اور جذبۂ خدمت کے ساتھ پاکستان کی کاروباری برادری کی رہنمائی کرتے رہیں۔ آمین۔
کاشف کھوکھر
صدر، قصور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری
