
1971ء کی پاک بھارت جنگ میں پتوکی اور چھانگا مانگا کے درمیان بی ایس لنک کینال ریلوے پل کی دفاعی اہمیت
قصور: پتوکی اور چھانگا مانگا کے درمیان بی ایس لنک کینال پر قائم ریلوے پل ضلع قصور کی اہم تاریخی یادگاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مقامی روایات اور مختلف تاریخی حوالوں کے مطابق 1971ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران اس پل کو غیر معمولی دفاعی اہمیت حاصل تھی، کیونکہ اس کے ذریعے لاہور کی جانب اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر فوجی سامان کی ترسیل کی جاتی تھی۔
بیان کیا جاتا ہے کہ اس دور میں بھارتی جنگی طیاروں نے اس ریلوے روٹ کو متعدد مرتبہ نشانہ بنانے کی کوشش کی تاکہ فوجی رسد کی ترسیل متاثر ہو سکے۔ مقامی افراد کے مطابق اوکاڑہ، پتوکی اور گردونواح میں جنگی طیاروں کی پروازوں اور بمباری کی آوازوں سے خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی تھی، تاہم پاکستانی فورسز نے دفاعی انتظامات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے اس اہم راستے کی حفاظت کو یقینی بنایا۔
معروف کالم نگار ایاز امیر نے بھی اپنے ایک کالم میں اس ریلوے پل کی جنگی اہمیت کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق انہیں دورانِ جنگ وائرلیس پیغام موصول ہوا کہ حویلی لکھا کے بجائے فوری طور پر پتوکی اور چھانگا مانگا کے درمیان واقع بی ایس لنک کینال ریلوے پل کا دفاع کیا جائے، کیونکہ دشمن کے جنگی طیارے مسلسل اس مقام کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے لکھا کہ اینٹی ایئر کرافٹ سکواڈ کو اس پل کی حفاظت کے لیے روانہ کیا گیا، تاہم وہاں پہنچنے سے قبل ہی جنگ بندی کی اطلاع موصول ہو گئی۔
1971ء کی جنگ کے حوالے سے مختلف آراء اور تاریخی ریکارڈ موجود ہیں، تاہم اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ پتوکی اور چھانگا مانگا کے درمیان واقع یہ ریلوے پل اس دور میں ایک اہم دفاعی مقام سمجھا جاتا تھا۔ آج بھی یہ پل نہ صرف ریلوے آمدورفت کا اہم حصہ ہے بلکہ ضلع قصور کی تاریخی شناخت اور جنگی یادگاروں میں بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔
نوٹ: اس مضمون میں شامل بعض تاریخی واقعات مختلف روایات، شائع شدہ تحریروں اور دستیاب حوالوں پر مبنی ہیں۔
