
قصور، گمشدہ دریچوں کا شہر — قسط نمبر 1از: امجد ظفر علی (نشانِ قصور)
از: امجد ظفر علی (نشانِ قصور)
ناول کی پہلی قسط
یہ 1934ء دسمبر کا مہینہ ہے۔
قصور، جسے مغلوں نے ایک مستحکم قلعہ نما شہر کی صورت بخشی تھی، محض گلی کوچوں یا اینٹ گارے کا نام نہیں تھا۔ یہ ایک پوری تہذیب تھی، ایک ایسا سماج جہاں ہندو، سکھ اور مسلمان ایک ہی تانے بانے میں گندھے ہوئے تھے۔ اس شہر کو بلند و بالا فصیلوں نے اپنی آغوش میں لے رکھا تھا، اور آٹھ دروازے اس کے رکھوالے بن کر باہر کی دنیا سے اس کا رابطہ جوڑتے تھے۔
اندرونِ قصور، جہاں یہ آٹھ دروازے پہرہ دیتے، زندگی کسی قدیم اور خوبصورت داستان کی مانند تھی۔ ہر دروازے کے پیچھے ایک کہانی تھی، گلی کے ہر موڑ پر کوئی راز چھپا تھا، اور ہر حویلی کی دیواروں میں وہ سرگوشیاں قید تھیں جو برسوں پہلے کہی اور سنی گئیں۔
لیکن قصور کی زندگی صرف فصیل کے اندر محدود نہیں تھی۔ اس دیوار سے باہر بھی ایک الگ دنیا سانس لیتی تھی۔ آٹھ دروازوں کے علاوہ شہر کے گردونواح میں کم و بیش بارہ چھوٹے چھوٹے قلعے آباد تھے، جنہیں “کوٹ” کہا جاتا تھا۔ ان کوٹوں، بازاروں، تالابوں اور عبادت گاہوں میں قصور کی ثقافت ایک الگ ہی رنگ میں دکھائی دیتی تھی۔
شہر کے باہر پھیلے ان کوٹوں میں ہر ایک کی اپنی الگ پہچان اور مزاج تھا۔ کوٹ مراد خان وہ علاقہ تھا جہاں بازارِ حسن کی رونقیں عروج پر تھیں۔ یہاں طوائفیں محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ فنونِ لطیفہ، رقص و موسیقی اور آدابِ محفل کی امین سمجھی جاتی تھیں۔
کوٹ رکن دین باقی کوٹوں پر ایک خاص فوقیت رکھتا تھا۔ یہاں قصور کے مشہور ہندو تاجر بستے تھے۔ جین مندر، دسہرہ گراؤنڈ، ہری ہر مندر اور اس کا تالاب، اور پھر حضرت بلھے شاہؒ کا دربار اور ریلوے اسٹیشن قریب ہونے کی وجہ سے یہ کوٹ ہر وقت گہما گہمی کا مرکز رہتا۔
کوٹ اعظم خان اور کوٹ فتح دین حاکموں کی بستیاں تھیں۔ یہاں قصور پر حکمرانی کرنے والے پٹھانوں کی شاندار حویلیاں تھیں۔ ساتھ ہی کچھ بڑے مسلم صنعت کار اور ہندو کاروباری لوگ بھی آباد تھے، جن کی تجارت کے تار لاہور اور دہلی تک پھیلے ہوئے تھے۔
کوٹ پیراں ایک ایسا کوٹ تھا جس کا صرف ایک ہی دروازہ تھا اور اندر مکمل طور پر مسلمانوں کی آبادی تھی، جبکہ پکا قلعہ، جو شہر سے قدرے باہر فصیل بند کوٹ تھا، کسی زمانے میں فوجی چھاؤنی کا درجہ رکھتا تھا۔
کوٹ حلیم خان، چمڑے کی مشہور مارکیٹ “دین گڑھ” سے متصل تھا، جہاں کے باسی اپنی مخصوص کاروباری زندگی گزارنے میں مگن رہتے تھے۔
صبح سویرے جب لاہوری دروازہ اور نواب حسین خان (موری گیٹ) کے کواڑ کھلتے تو قصور کی تنگ گلیوں میں زندگی انگڑائی لے کر جاگ اٹھتی۔ ماشکی اپنے چمڑے کے مشکیزوں سے کنوؤں کا پانی نکال کر اندرونِ شہر کی گلیوں میں چھڑکاؤ کرتے اور جمعدار صفائی کرتے جاتے۔ مساجد، مندروں اور گردواروں سے عبادات کی صدائیں ایک ساتھ فضا میں بلند ہوتیں۔
پتھروں سے جڑے فرش پر صبح سویرے گوالے دودھ کی بالٹیاں لٹکائے گزرتے۔ حلوائیوں کی دکانوں سے تازہ دہی، دودھ، لسی اور پوری حلوے کی اشتہا انگیز خوشبو اٹھتی، جبکہ بھٹیوں پر خطائی، پتیسہ اور کلچے تیار ہونے لگتے۔
فصیل بند شہر کے اندر کوٹ غلام محی الدین، کوٹ عثمان خان اور کوٹ بدر دین جیسے محلے تھے۔ چوک دالگراں اور کوٹ عثمان خان میں راجوں اور نوابوں کی حویلیاں تھیں، جہاں لکڑی کے جھروکوں سے جھانکتی پردہ نشین عورتیں بازار کا نظارہ کرتیں۔ کوٹ نواب حسین خان کے دروازے کے پاس مہاجنوں کے گھر تھے، جن کی گلیاں رات کو بھی روشنیوں میں یوں جگمگاتیں جیسے خوشیوں کے دیے جل رہے ہوں۔
دن چڑھتے ہی بچے سکولوں اور مدرسوں کی طرف رواں دواں ہو جاتے۔ خواتین گھریلو کاموں میں مصروف ہوتیں۔ مہاتماں والی گلی میں ہاتھوں سے چخیں بننے، سلائی اور کڑھائی کا کام شروع ہو جاتا، جبکہ مہتہ والی اور ساگ والی گلی میں سناروں کی دکانیں کھل جاتیں۔ مہتماواں والا دروازہ، کمہاراں والا دروازہ اور پتواں والا دروازہ میں چہل پہل شروع ہوتی اور لوگ دن بھر کی مشقت کے لیے تیار ہو جاتے۔
درگاہ بلھے شاہؒ سے باہر گیرو کھوہ کے سامنے لنڈا بازار اور گندم و سبزی منڈیوں میں خریداروں اور تاجروں کے بھاؤ تاؤ کا شور گونجنے لگتا۔
اندرونِ شہر کی اس روایتی زندگی سے ہٹ کر، ریلوے روڈ پر “کرشنا نگر” کے نام سے ایک جدید علاقہ واقع تھا۔ یہ علاقہ لاہور کے ماڈل ٹاؤن کی طرز پر جدید منصوبہ بندی کے تحت بسایا گیا تھا۔ صاف ستھری سڑکیں، وسیع مکانات اور برطانوی طرز کی عمارتیں اس کی پہچان تھیں۔ یہاں کے بڑے بڑے ساہوکار، ہندو اور سکھ تاجر نہ صرف قصور بلکہ امرتسر اور لاہور تک تجارت کرتے تھے۔ کرشنا نگر کے اطراف بازاروں میں جدید طرز کے ملبوسات اور زیورات کی چمک پورے قصور کو خیرہ کرتی تھی۔
کوٹ اعظم خاں کے باہر بڑا مندر اور وکیل کاشی رام کوچھر کی پیلی حویلی، پھر ایک بڑا شمشان اور اس سے آگے لالہ دینا ناتھ کی حویلی اور فیکٹری تھی۔ ایک راستہ کھارا گاؤں کو جاتا اور دوسرا رائے ونڈ کی طرف۔
شہر سے باہر جی ٹی روڈ پر نکلیں تو “کمپنی باغ” (اسٹیل باغ) کی ہریالی استقبال کرتی۔ خواجہ صاحب کے قبرستان کے ختم ہوتے ہی محصول چونگی آ جاتی۔ اس سے متصل تحصیل، تھانہ صدر اور قصور جیل واقع تھی۔ اسی چوک، جہاں ایک ہندو اشنان تالاب تھا، وہاں سے ایک راستہ کھیم کرن کی طرف نکل جاتا۔ یہیں جی ٹی روڈ پر گول گنبد والی ایک شاندار عمارت تھی، جو اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) کی رہائش گاہ تھی۔ ساتھ ہی تحصیل کا ریلوے اسٹیشن تھا، جہاں سے کھیم کرن کو ریل گاڑی جاتی۔
جی ٹی روڈ پر مزید آگے جائیں تو ایک اونچے ٹیلے پر گھنے درخت کی چھاؤں میں ایک بزرگ کی قبر اور ساتھ میٹھے پانی کا کنواں راہگیروں کو سکون بخشتا۔
شام ڈھلتے ہی اندرونِ قصور کی گلیاں روشنیوں میں نہا جاتیں۔ حسین خان والے بازار میں سب سے زیادہ ہجوم ہوتا، جہاں ساہوکار گدیوں پر بیٹھے سوداگروں سے مال خریدتے۔ صرافہ بازار میں ہندو ساہوکاروں کی سنہری تختیوں والی دکانوں پر سونے اور قیمتی پتھروں کا کاروبار ہوتا، تو کچھ آگے کبوتر منڈی میں دیسی گھی، اچار اور نایاب مصالحوں کی مہک بازار کو معطر کر دیتی۔
سب سے مشہور مقام گیرو کھوہ اور حضرت بلھے شاہؒ کی درگاہ کے نزدیک “لالہ مول چند کی حویلی” تھی۔ پرانے لکڑی کے دروازے، کندہ کاری والے جھروکے اور روشندانوں میں لگے سرخ شیشے اس حویلی کی شان تھے۔ اس حویلی کے اندر ہندو، سکھ اور مسلمان سبھی بلا تفریق آتے جاتے۔ یہاں کاروبار بھی ہوتا اور دل کی باتیں بھی۔
جب رات گہری ہوتی تو حویلی کے کشادہ دالان میں حقے کے کش لگاتے بوڑھے نوجوانوں کو اپنے تجربات سناتے۔ کسی ایسی ہی محفل میں کوئی دانا بزرگ کہتا:
“یہ شہر صرف اینٹ اور پتھر سے نہیں بنا… یہ محبت اور اعتبار کی اینٹوں سے بنا ہے۔”
اندرونِ شہر کی یہ زندگی اپنی مثال آپ تھی۔ بسنت کے دن بابا امام بخاری اور صدر دیوان کا میلہ، اور پھر قصور کی تمام چھتیں رنگ برنگی پتنگوں اور بوکاٹے کے شور سے بھر جاتیں۔ دیوالی کے دیوں کی روشنی اور عید کی مٹھائیاں ایک دوسرے کے صحن تک بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پہنچتیں۔
یہ وہ قصور تھا جو اپنے آٹھ دروازوں اور بارہ کوٹوں کے اندر ایک سانجھے خاندان کی طرح سانس لے رہا تھا، اس بات سے بے خبر کہ تاریخ کے صفحات میں جلد ہی کوئی نیا باب لکھے جانے والا ہے۔
اندرونِ شہر میں ہندو، سکھ اور مسلمان ایک ساتھ کاروبار کرتے۔ ایک طرف ہندو ساہوکاروں کی حویلیاں تھیں، جہاں بڑے بڑے لکڑی کے دروازوں پر کندہ کاری کی گئی تھی۔ اندر، گھی، تیل، کپڑے اور سونے کی دکانیں تھیں۔ سکھوں کے پاس کاریگری کے کارخانے تھے۔ لوہاروں کے بھٹّے، جوتیوں کے کارخانے اور رنگ سازوں کی دکانیں۔ مسلمان زیادہ تر زمینداری اور چمڑے کی صنعت کے پیشے سے وابستہ تھے، مگر اندرونِ شہر وہ خوشبو بکھیرنے والے عطار، کڑھائی کرنے والے دستکار اور حلوائیوں کے ماہر تھے۔
گھروں میں صبح کے وقت سبزی فروش آوازیں لگاتے:
“لے لو گاجر، مولی، ساگ! آج دیسی شلجم آئے نیں!”
ہندو گاہک منڈی میں سودا لیتے، سکھ سبزی منڈی میں بھاؤ تاؤ کرتے، اور مسلمان بابا بلھے شاہؒ کے مزار کے قریب چھوٹے بازاروں میں خریداری کرتے۔
قصور کے بازار لاہور کے اندرونِ شہر کی طرح ہی تھے، مگر ان میں اپنا الگ جادو تھا۔ صرافہ بازار میں سونے چاندی کے زیور بنتے، کوٹ مراد خان بازار میں نرم ململ اور ریشمی کپڑے، اور منڈی میں ہر طرح کے مسالے اور چٹنیاں ملتیں۔
بازار میں خریداروں کی چہل پہل ہوتی، اور ہندو مہاجن، سکھ سردار اور مسلمان تاجر سبھی ایک ہی چھت کے نیچے کاروبار کرتے۔ صبح ہوتے ہی دکانوں کے تھڑے دھوئے جاتے، اور ساہوکار گڈیوں میں لپٹے روپے گنتے، جب کہ تاجر اپنے دیے جلانے کے لیے گھی خریدتے۔
مساجد، گوردوارے اور مندر اس شہر کی روح تھے۔ جمعہ کے دن اندرونِ شہر کی مسجد حسین خان، مسجد رانجھے خان، حوض والی مسجد اور کوٹ رکن دین کی کھجور والی مسجد میں خطبہ ہوتا، تو دوسری جانب گوردواروں میں شبد کی آوازیں گونجتیں۔ صبح سویرے ادھر مؤذن اذان دیتا، ادھر ہندو برادری اپنے مندروں میں گھنٹیاں بجاتی، مگر سب ایک دوسرے کی عبادت کا احترام کرتے تھے۔ حضرت بابا بلھے شاہؒ کے مزار پر ہر مذہب کے لوگ حاضری دیتے اور عقیدت کے پھول نچھاور کرتے۔
قصور کے بازاروں میں تقسیمِ ہند سے پہلے تک ہندو کی دکان پر مسلمان ادھار پر سودا لیتا، سکھ کے کارخانے میں ہندو ملازم ہوتا، اور مسلمان استاد سکھ بچوں کو فارسی پڑھاتا۔ مذہب کی کوئی تفریق نہ تھی، سب ایک ہی فضا میں سانس لیتے اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہتے تھے۔
حضرت بابا بلھے شاہؒ کے دربار پر ہر جمعرات چراغ روشن ہوتے اور مسلمان، ہندو اور سکھ سبھی نیاز تقسیم کرنے میں حصہ لیتے۔ لنگر میں ہر آنے والے کے لیے کھانا موجود ہوتا۔ نہ کسی کے مذہب کی بنیاد پر امتیاز تھا اور نہ ہی کسی کے ہاتھ سے کھانے میں جھجک محسوس کی جاتی تھی۔
قصور کا ریلوے اسٹیشن اُس زمانے میں شہر کی مصروف ترین جگہوں میں شمار ہوتا تھا۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے مسافر، تاجر اور زائرین یہاں اترتے، کاروباری معاملات طے ہوتے اور مسافر سراؤں میں قیام کرتے۔ ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک وسیع تالاب بھی تھا، جو کسی زمانے میں نہ صرف پانی کا اہم ذریعہ تھا بلکہ ایک خوبصورت تفریح گاہ بھی سمجھا جاتا تھا۔ ہندو برادری یہاں مذہبی رسومات ادا کرتی، جبکہ مسافر اس کے کنارے بیٹھ کر سفر کی تھکن اتارتے۔
یہ وہ دور تھا جب بجلی عام نہیں تھی۔ رات کے وقت گلیاں گیس کے لیمپوں، تیل کے دیوں اور مشعلوں کی روشنی سے روشن ہوتیں، جبکہ دن کے اجالے میں بچے گلیوں میں کھیلتے، دکاندار اپنی حویلیوں کے جھروکوں میں بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لیتے اور ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کی چہل پہل جاری رہتی۔
قصور کی سب سے نمایاں پہچان اس کی رواداری اور باہمی بھائی چارہ تھا۔ شہر کے تہوار مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کے ملاپ کی خوبصورت تصویر پیش کرتے تھے۔
دسہرہ کے موقع پر قصور کا دسہرہ گراؤنڈ مشترکہ تہذیب کی سب سے بڑی علامت بن جاتا۔ گراؤنڈ میں میلے کا سماں ہوتا، رنگ برنگے جھولے گھومتے، مداری اپنے کرتب دکھاتے اور بنجارے گیت گاتے۔ شام ڈھلتے ہی راون، کمبھ کرن اور میگھناتھ کے دیوہیکل پتلے نذرِ آتش کیے جاتے اور پورا میدان “جے شری رام” کے نعروں اور آتش بازی سے گونج اٹھتا۔ اس خوشی میں مسلمان اپنے گھروں سے کھانے کے تھال بھیجتے اور سکھ برادری محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیتی۔
اسی طرح دیوالی پر کرشنا نگر اور شہر کے دوسرے بازار دیوں کی روشنی میں نہا جاتے۔ مٹھائیوں کی دکانوں پر غیر معمولی رش ہوتا اور ہر طرف خوشی کا سماں نظر آتا۔
حضرت بابا بلھے شاہؒ کا عرس قصور کا سب سے بڑا روحانی میلہ تھا، جہاں عقیدت مندوں، صوفیوں اور فقیروں کا جمِ غفیر امڈ آتا۔ تین دن تک قوالی اور محفلِ سماع جاری رہتی۔ مزار کے گرد دیسی جھولے، چرخیاں اور کھانوں کے اسٹال سج جاتے، جو میلے کی رونق کو دوبالا کر دیتے تھے۔
محرم الحرام کے ایام میں اندرونِ شہر کی گلیاں نوحہ خوانی، تعزیوں اور عزاداروں کی صداؤں سے گونج اٹھتیں۔ شام کے وقت گلیوں میں سبیلیں سجتیں، نیاز تقسیم ہوتی اور لوگ مذہبی عقیدت کے ساتھ ان تقریبات میں شریک ہوتے۔ اسی طرح عید میلاد النبی ﷺ پر پورا شہر چراغاں، سبز پرچموں اور روشنیوں سے سج جاتا۔ شبِ برات پر گھروں میں شیرینی تیار کی جاتی، بچے رنگ برنگی مشعلیں جلاتے اور لوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے لیے قبرستانوں کا رخ کرتے۔ عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر گلیوں میں قالین بچھتے، لوگ نئے لباس زیب تن کرتے، ایک دوسرے سے گلے ملتے اور بازاروں میں شیر خرما، سموسوں اور دیگر روایتی پکوانوں کی بہار آ جاتی۔
سکھ برادری بھی اپنے مذہبی تہوار پورے احترام اور جوش و خروش سے مناتی تھی۔ بیساکھی اور بابا گرو نانک دیو جی کے جنم دن کے موقع پر گوردواروں میں خصوصی تقریبات منعقد ہوتیں۔ دور دراز علاقوں سے سکھ یاتری قصور آتے اور مقامی مسلمان دکاندار ان کا خیر مقدم کرتے۔ رام تھمن کے مقام پر بھی سالانہ میلہ لگتا، جہاں مختلف علاقوں سے آنے والے لوگ شریک ہوتے اور میل جول کا خوبصورت منظر دیکھنے کو ملتا۔
قصور کی ثقافت کا ذکر اس کے کھانوں کے بغیر ادھورا ہے۔ یہ شہر اپنے ذائقوں، مہمان نوازی اور روایتی پکوانوں کی وجہ سے بھی پہچانا جاتا تھا۔ صبح کا آغاز حلوہ پوری، تازہ دہی اور لسی سے ہوتا۔ خاص طور پر تہواروں اور جمعے کے دن یہ ناشتہ تقریباً ہر گھر کی روایت سمجھا جاتا تھا۔
شام ڈھلتے ہی بازاروں میں دال اور پالک کے پکوڑوں، بیسن کی ٹکیوں، بھنے ہوئے چنوں، مکئی، گڑ اور قصوری فالودے کی خوشبو ہر طرف پھیل جاتی۔ لوگ بازاروں میں بیٹھ کر گپ شپ کرتے اور دیر رات تک رونق برقرار رہتی۔
قصور کی رس ملائی، گلاب جامن، اندرسے اور سوجی کا حلوہ دور دور تک مشہور تھے۔ شادی بیاہ، عرس اور دیگر خوشی کے مواقع پر رات کے وقت “پورہ” (میٹھی روٹی) تیار کرنے کی روایت بھی قصور کی قدیم ثقافت کا حصہ تھی۔
چونکہ اُس دور میں بجلی عام نہیں تھی، اس لیے رات کے وقت گلیوں اور بازاروں کو گیس کے لیمپوں، تیل کے دیوں اور مشعلوں سے روشن کیا جاتا تھا۔ ہر گلی کے نکڑ پر چوکیدار اپنے ہاتھ میں نیزہ یا لاٹھی لیے پہرہ دیتے اور وقفے وقفے سے اپنی مخصوص آواز میں جاگتے رہنے کا اعلان کرتے، تاکہ لوگ خود کو محفوظ محسوس کریں۔
شام کے وقت حویلیوں کے کشادہ صحنوں، دکانوں کے تھڑوں اور چوکوں میں لوگ ریڈیو کے گرد جمع ہو جاتے۔ خبروں کا وقت ہوتے ہی ایک عجیب سی خاموشی چھا جاتی۔ ہر شخص اپنے علاقے، ملک اور دنیا کے حالات جاننے کے لیے کان لگا کر بیٹھ جاتا۔
اس دور کے بچوں کی دنیا بھی اپنی مثال آپ تھی۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور جدید سہولیات سے بے نیاز بچے گلیوں میں باندر کلا، کنچے، کبڈی، پٹھو گرم، گلی ڈنڈا اور آنکھ مچولی جیسے کھیل کھیلتے۔ گرمیوں کی راتوں میں چھتوں پر بستر بچھتے، بزرگ پرانی داستانیں سناتے، بچے تاروں بھرے آسمان کو تکتے تکتے سو جاتے اور یوں قصور کی ہر رات ایک نئے خواب کو جنم دیتی، جبکہ ہر صبح اپنے ساتھ ایک نئی امید لے کر طلوع ہوتی۔
✍️ از: امجد ظفر علی (نشانِ قصور)
📖 ناول: قصور، گمشدہ دریچوں کا شہر
■ پہلی قسط اختتام پذیر ■
