
قصور: ڈی ایچ کیو ہسپتال کے باہر مریضہ ایک گھنٹے تک درد سے تڑپتی رہی، “اینہوں لاہور لے جاؤ” کی آوازیں پھر گونج اٹھیں
قصور: ضلع ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال قصور کے باہر ایک مریضہ تقریباً ایک گھنٹے تک شدید درد کی حالت میں لکڑی کے بینچ پر پڑی رہی، جبکہ اس کے اہل خانہ لاہور منتقلی کے لیے کم کرائے پر رکشہ تلاش کرتے رہے۔
عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ 23 جولائی 2026 کی رات تقریباً 9:30 بجے اسٹیل باغ چوک، ڈی ایچ کیو ہسپتال کے قریب پیش آیا۔
موقع پر موجود مقامی صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے مریضہ کے ساتھ موجود خاتون نے بتایا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں مطلوبہ علاج کی سہولت دستیاب نہ ہونے کے باعث انہیں لاہور منتقل کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ ان کے مطابق مالی مشکلات کی وجہ سے فوری گاڑی کا انتظام نہ ہو سکا، جس کے باعث مریضہ کو طویل انتظار اور شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ منظر دیکھ کر وہاں موجود متعدد شہریوں نے وہی پرانا جملہ دہرایا جو برسوں سے قصور میں زیرِ بحث رہا ہے:
“اینہوں لاہور لے جاؤ۔”
شہریوں کا کہنا تھا کہ اگر ضلعی سطح پر تمام بنیادی طبی سہولیات اور بروقت مریض منتقلی کا مؤثر نظام موجود ہو تو متعدد مریضوں کو اس طرح کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر ضلع قصور میں طبی سہولیات، ریفرل سسٹم اور ایمرجنسی ٹرانسپورٹ کے حوالے سے عوامی خدشات کو سامنے لے آیا ہے۔
ڈی ایچ کیو ہسپتال یا ضلعی انتظامیہ کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔ سرکاری مؤقف موصول ہونے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ قارئین کو معاملے کا مکمل اور متوازن مؤقف فراہم کیا جا سکے۔
