
دریائے ستلج کا 1988 کا تاریخی سیلاب: بیاس کا وہ کردار جو اکثر فراموش کر دیا جاتا ہے
تحریر: شفیق الرحمن سندھو
1988 کا مون سون پاکستان کی تاریخ میں “سیلابوں کا سال” کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اس سال دریائے ستلج میں آنے والا شدید سیلاب پنجاب کے متعدد علاقوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا، تاہم اس سیلاب کی کہانی صرف دریائے ستلج تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں دریائے بیاس کا کردار بھی اہم تھا، جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
شفیق الرحمن سندھو اپنی تحریر میں لکھتے ہیں کہ جولائی اور اگست 1988 کے دوران ہماچل پردیش اور جموں کے پہاڑی علاقوں میں غیر معمولی بارشیں ہوئیں، جس کے باعث دریائے ستلج میں بھاکڑا ڈیم اور دریائے بیاس میں پونگ ڈیم پر پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی۔ ہریکے ہیڈورکس پر دونوں دریا آپس میں ملتے ہیں اور اس وقت وہاں سے چھوڑا جانے والا پانی چھ لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گیا، جو گنڈا سنگھ والا کے راستے پاکستان میں داخل ہوا۔
مصنف کے مطابق اس وقت ستلج اور بیاس کا مشترکہ سیلابی ریلا ضلع قصور، اوکاڑہ اور بہاولنگر کے وسیع علاقوں تک پہنچا۔ ان کے بقول اگرچہ سندھ طاس معاہدے کے بعد دریائے بیاس کا پانی معمول کے مطابق پاکستان نہیں آتا، تاہم 1988 میں قدرتی حالات نے اس منظرنامے کو تبدیل کر دیا۔
تحریر میں مزید کہا گیا ہے کہ ضلع قصور اس سیلاب سے شدید متاثر ہوا۔ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آئی، سینکڑوں دیہات متاثر ہوئے، فصلیں تباہ ہوئیں اور ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنا پڑی۔ فوج اور رینجرز نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے دوران کشتیوں کے ذریعے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
شفیق الرحمن سندھو لکھتے ہیں کہ 2023 اور 2025 کے سیلابی حالات میں بھی ستلج اور بیاس کے مشترکہ اثرات دیکھنے میں آئے، جبکہ نتھووالہ، چونیاں اور پتوکی کے اطراف بیاس کے قدیم بہاؤ کے راستے آج بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق ان علاقوں میں بے ہنگم تعمیرات مستقبل میں خطرات کو بڑھا سکتی ہیں، اس لیے سیلابی گزرگاہوں کے تحفظ اور نالوں کی باقاعدہ صفائی ناگزیر ہے۔
اپنی تحریر کے اختتام پر مصنف لکھتے ہیں کہ “دریا معاہدے نہیں مانتے، وہ اپنا راستہ یاد رکھتے ہیں۔ پانی کے قدرتی راستوں کا احترام نہ کیا جائے تو وہ اپنا راستہ خود بنا لیتا ہے۔”
