
املاک پر حملے اور تشدد ناقابل قبول، سیاسی اختلافات آئینی طریقے سے حل کیے جائیں: سپیکر ملک محمد احمد خان
لاہور: سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا، تشدد اور حساس تنصیبات پر حملے کسی صورت قابل قبول نہیں۔ سیاسی اختلافات کو تصادم کے بجائے آئینی اور قانونی طریقہ کار کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے ان خیالات کا اظہار ایکسپو سینٹر میں منعقدہ 26ویں بین الاقوامی پولٹری نمائش آئی پیکس 2026 میں بطور مہمان خصوصی شرکت کے موقع پر کیا۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں، عبادت گاہوں، قومی املاک اور کاروباری مراکز کا تحفظ یقینی بنائے۔ سیاسی اختلافات جمہوری عمل کا حصہ ہیں، تاہم ان کے اظہار سے عام شہریوں کی زندگی، کاروبار اور بچوں کی تعلیم متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی، غربت میں کمی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے سرمایہ کاری اور نجی شعبے کا فروغ ناگزیر ہے۔ حکومت تنہا تمام شہریوں کو روزگار فراہم نہیں کر سکتی، اس لیے کاروباری سرگرمیوں میں اضافے اور نجی شعبے کی مؤثر شمولیت کی ضرورت ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ نمائش میں ملکی و غیر ملکی اداروں، سرمایہ کاروں، ماہرین، ڈاکٹروں اور کاروباری شخصیات کی شرکت پولٹری انڈسٹری کی اہمیت اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولٹری کا شعبہ ادویات، جدید مشینری، انڈوں کی پیداوار، پراسیسنگ، برآمدات اور مقامی منڈی سمیت متعدد کاروباری سرگرمیوں سے منسلک ہے۔ ایسی نمائشیں کاروباری روابط کو فروغ دینے، نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
ملک محمد احمد خان نے نمائش میں چینی پویلین اور جدید آلات و پراسیسنگ پلانٹس کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی کاروباری روابط کو وسعت دینا اور سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا معاشی ترقی کے لیے اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں میں تعطل سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سیاسی قیادت کو قومی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ کاروباری سرگرمیوں اور شہری زندگی کا تسلسل برقرار رہے۔
تعلیم کے شعبے پر بات کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی نے سرکاری اسکولوں میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تدریس اور مصنوعی ذہانت کی سہولتوں کے استعمال کو اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید تعلیمی سہولتیں طلبہ کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنے میں مدد دے سکتی ہیں، جبکہ تعلیمی اداروں کی بندش بچوں کے تعلیمی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
حکومت پنجاب کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے رہائشی سہولتوں اور صفائی کے شعبوں میں جاری کوششوں پر بھی بات کی اور کم آمدن والے افراد کے لیے رہائشی منصوبوں کی اہمیت اجاگر کی۔
نمائش کے منتظمین اور شرکا کو مبارک باد دیتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ایسے تجارتی اجتماعات مختلف شعبوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے، نئی مصنوعات اور ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سرمایہ کاری کے فروغ، نجی شعبے کی شمولیت، سیاسی مکالمے اور تعلیمی و کاروباری سرگرمیوں کے تسلسل سے پاکستان میں ترقی اور روزگار کے مزید مواقع پیدا کیے جا سکیں گے۔
