
قصور چیمبر کی بنیاد رکھنے والوں کو خراجِ تحسین، کاشف کھوکھر کی خدمات قابلِ ذکر
قصور: بابا بلھے شاہؒ کی سوہنی دھرتی قصور اپنی تاریخی، ثقافتی، زرعی اور صنعتی شناخت کے ساتھ ایک بڑی اور متحرک کاروباری برادری کا مرکز بھی ہے۔ چمڑے اور شوز انڈسٹری، ٹیکسٹائل، کینوس، دستکاری، عروسی ملبوسات اور دیگر شعبے قصور کی معاشی شناخت کا اہم حصہ ہیں، جبکہ زرعی پیداوار میں چاول، مکئی، گنا، ہلدی اور دنیا بھر میں مشہور قصوری میتھی بھی نمایاں مقام رکھتی ہے۔ پتوکی کی نرسریاں بھی خطے کی اہم کاروباری سرگرمیوں میں شمار ہوتی ہیں۔
قصور کو 1976 میں ضلع کا درجہ ملا، تاہم ایک طویل عرصے تک یہاں کی وسیع کاروباری برادری کو اپنے باقاعدہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے پلیٹ فارم کا انتظار رہا۔
اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے 2022 میں حسنین کھوکھر، کاشف کھوکھر اور ان کے چھوٹے بھائی شہید علی حسن کھوکھر نے قصور کی بزنس کمیونٹی کے لیے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قیام کا وژن پیش کیا۔
اس وژن کو عملی شکل دینے کے لیے مسلسل محنت اور جدوجہد کی گئی اور 2023 میں ضروری دستاویزات، رجسٹریشن اور این او سی کا عمل مکمل ہونے کے بعد کاشف کھوکھر قصور چیمبر کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔
قصور چیمبر کے قیام کے بعد ادارے کو عملی بنیادوں پر مضبوط کرنے کے لیے بھی کاشف کھوکھر کی جانب سے اہم کردار ادا کیا گیا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق چیمبر کی عمارت کی تعمیر میں انہوں نے اپنی ذاتی مالی معاونت فراہم کی، جبکہ عمارت میں قصور کی مصنوعات پر مشتمل نمائشی شوکیس گیلری بھی قائم کی گئی، جس کا مقصد مقامی صنعت، ہنر اور مصنوعات کو نمایاں کرنا تھا۔
یہ کاوش قصور کی کاروباری شناخت کو ایک منظم ادارہ جاتی پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوششوں کا حصہ تھی۔
قصور چیمبر کے قیام کے بعد بزنس کمیونٹی کو مختلف اہم خدمات کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہوا، جن میں ریکمینڈیشن لیٹر، انوائٹیشن لیٹر، امپورٹ و ایکسپورٹ سرٹیفکیٹس اور دیگر کاروباری سہولیات شامل ہیں۔
چیمبر کی جانب سے قصور کی بزنس کمیونٹی کے لیے بڑے پروگرامز بھی منعقد کیے گئے۔ پہلے بڑے ایونٹ میں چینی قونصل جنرل کاو کی، گیسٹ آف آنر جنرل عبدالقیوم، دفاعی اداروں کے سینئر افسران، سیکریٹری داخلہ، چیف سیکریٹری آزاد کشمیر اور قصور کی کاروباری برادری نے شرکت کی۔
بعد ازاں 20 اکتوبر 2025 کو سالانہ جنرل میٹنگ کے موقع پر منعقد ہونے والے پروگرام میں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان، ایس ایم تنویر، وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ ملک رشید احمد خان، صوبائی وزیر محنت و کھیل فیصل ایوب کھوکھر اور وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔
کاشف کھوکھر کی قیادت میں قصور چیمبر کی جانب سے ملک کے مختلف کاروباری و حکومتی حلقوں کے ساتھ روابط بھی قائم کیے گئے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ایس ایم تنویر کی قیادت میں مختلف اہم شخصیات اور حکام سے ملاقاتوں کے دوران قصور کے صنعتی و تجارتی مسائل اور کاروباری برادری کے مفادات کو اجاگر کیا گیا۔
اسی طرح لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، گجرات، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سمیت مختلف شہروں کے چیمبرز کے دورے بھی کیے گئے، جس کا مقصد کاروباری روابط کو فروغ دینا اور تجربات سے استفادہ کرنا تھا۔
قصور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قیادت اب عمران شوکت علی کے پاس ہے۔ ان کی بطور نئے صدر ذمہ داری سنبھالنے پر قصور کی بزنس کمیونٹی کی جانب سے نیک خواہشات اور بھرپور خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔
نئی قیادت سے امید ہے کہ وہ قصور کی صنعت، تجارت اور کاروباری برادری کے لیے اسی جذبے کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے گی اور چیمبر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ چیمبر کے قیام اور ابتدائی ادارہ سازی میں کردار ادا کرنے والی شخصیات کی خدمات کو یاد رکھنا بھی ضروری ہے۔ حسنین کھوکھر، کاشف کھوکھر اور شہید علی حسن کھوکھر کی جانب سے چیمبر کے قیام کے لیے پیش کیا جانے والا وژن اور اس کے عملی مراحل میں کی جانے والی جدوجہد قصور کی کاروباری تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔
خصوصاً کاشف کھوکھر کی بطور بانی صدر خدمات، چیمبر کے قیام کے لیے ان کی جدوجہد، عمارت کے لیے ذاتی مالی معاونت اور قصور کی صنعتی و تجارتی شناخت کو اجاگر کرنے کی کوششیں قابلِ ذکر ہیں۔
آج قصور چیمبر کی قیادت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ نئے صدر عمران شوکت علی کو خوش آمدید کہتے ہوئے سابق قیادت کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا دراصل قصور کی کاروباری برادری کے سفر کی پوری تصویر کو احترام کے ساتھ یاد کرنا ہے۔
