
مولانا! یہ وہی کیلے کا چھلکا ہے۔۔۔ — نجم ولی خان
✍️ تحریر: نجم ولی خان
مولانا! یہ وہی کیلے کا چھلکا ہے۔۔۔
مولانا آپ مانیں یا نہ مانیں، پاکستان کو تین مقبول قیادتیں اور کرشمہ ساز لیڈر ملے، اور تینوں ہی نہ جمہوریت نے دیے اور نہ آئین نے، بلکہ تینوں فوج نے ہی دیے۔ ان میں سے دو نے زمینی حقائق سمجھ لیے کہ سیاست نام ہی معاملہ فہمی کا ہے، راستہ نکالنے کا ہے۔
مان لیجیے، ان تینوں نے دیوار سے ٹکر مار کر دیکھ لیا، اور آپ کو بھی یہ دیوار پھلانگنے کا شوق ہے۔ آپ بھی خود کو ہرن سمجھتے ہیں تو یہ دیوار بھی سامنے موجود ہے اور آپ کی چھلانگ کی طاقت بھی۔
بصد احترام، آپ کو بھی طاقت اور اختیار تب ہی ملا جب آپ اسی وردی کے سائے تلے تھے، چاہے وہ مشرف دور میں خیبرپختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ اور قومی اسمبلی کی اپوزیشن لیڈری ہو (جس میں آپ نے اس مارشل لا کو آئینی ترمیم کے ذریعے جواز دیا) یا پی ڈی ایم دور کی خاندان بھر میں ریوڑیوں کی طرح بانٹی ہوئی وزارتیں اور گورنریاں۔
جن کی آپ بات کر رہے ہیں، (الیکشن ریکارڈ نکال کر دیکھ لیجیے) ان سے ہٹ کر تو آپ علی امین گنڈاپور سے بھی نہیں جیت سکے۔
پھر احترام کے ساتھ مولانا، آپ عمران خان بننا چاہتے ہیں؟ بی ایل اے یا پی ٹی ایم بننا چاہتے ہیں؟ یا وہی سیانے اور پرانے 73 کے آئین کے تناظر والے معاملہ فہم مولانا فضل الرحمٰن؟ یہ چوائس تو آپ کے پاس تھی، مگر معذرت کے ساتھ آپ نے جماعت اسلامی والی غلطی کر لی ہے۔
بہرحال، دنیا بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ میرا عاجزانہ اور ہمدردانہ مشورہ یہی ہے کہ آپ بم کو لات مارنے کی وہ غلطی مت کریں جو ابھی تازہ تازہ عمران خان نے کی ہے۔
حضور! اقتدار تو آتا جاتا رہتا ہے، اور آتی جاتی شے پر اتنا غصہ کیوں؟ یہ ضروری نہیں کہ ساری عقل ہمارے پاس ہو، مگر اتنی عقل ضرور ہونی چاہیے کہ ہم احمقوں کی غلطیوں سے سبق سیکھ سکیں۔ وہ جو آپ سے پہلے اسی کیلے کے چھلکے سے پھسلے، وہ کہاں ہیں؟ ان کو دیکھ لیجیے، اس کے بعد آپ بھی فیصلہ کر لیجیے گا کہ آپ نے کیلے کے اسی چھلکے سے پھسلنا ہے یا سجے کھبے ہو کر نکل جانا ہے۔
