
قصور: شہباز روڈ پر جھولوں کے این او سی کی شرائط پر سوالات، مقامی صحافی میاں کاشف نے معاملہ اٹھا دیا
قصور: شہباز روڈ پر لگنے والے جھولوں اور دیگر تفریحی سرگرمیوں کے حوالے سے جاری کیے گئے این او سی کی شرائط پر عملدرآمد کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے گئے ہیں۔ مقامی صحافی میاں کاشف نے کے فور قصور کو بتایا کہ این او سی میں سکیورٹی اور حفاظتی انتظامات سے متعلق متعدد شرائط شامل ہیں، تاہم ان پر عملدرآمد کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں۔
چیف آفیسر میونسپل کمیٹی قصور خواجہ کامران کی جانب سے جاری کردہ این او سی کے مطابق پروگرام کے منتظمین کے لیے متعدد شرائط عائد کی گئی تھیں، جن میں پروگرام کو چار دیواری کے اندر منعقد کرنا اور پورے مقام کے گرد کم از کم 8 فٹ اونچی کوریگیٹڈ لوہے کی چادروں سے حفاظتی حدود قائم کرنا شامل ہے۔
این او سی کی شرائط کے مطابق سکیورٹی کے لیے مقام کے چاروں کونوں پر قابلِ رسائی واچ ٹاورز قائم کرنے اور سنائپرز کی تعیناتی بھی لازم قرار دی گئی تھی، جبکہ پروگرام کے تمام سکیورٹی انتظامات منتظمین کی ذمہ داری قرار دیے گئے تھے۔
اسی طرح سکیورٹی کے مقصد کے لیے کنٹرول روم سمیت کم از کم 10 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے، رجسٹرڈ کمپنی کے کم از کم 20 تربیت یافتہ سکیورٹی گارڈز مناسب یونیفارم میں تعینات کرنے اور خواتین کے حصے میں خواتین سکیورٹی گارڈز کی تعیناتی کی شرط بھی شامل تھی۔
این او سی میں مردوں اور خواتین کے لیے علیحدہ حصے یا کمپارٹمنٹس بنانے جبکہ داخلے اور خروج کے لیے الگ راستے مختص کرنے کی شرط بھی عائد کی گئی تھی۔
مقامی صحافی میاں کاشف نے سوال اٹھایا ہے کہ جب این او سی میں سکیورٹی اور دیگر انتظامات سے متعلق شرائط واضح طور پر درج ہیں تو کیا متعلقہ انتظامیہ نے موقع پر جا کر ان شرائط کی تکمیل کی تصدیق کی؟ اگر شرائط پوری نہیں ہوئیں تو متعلقہ اداروں کی جانب سے کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی؟
میاں کاشف کے مطابق ایک اور اہم سوال جھولوں کے این او سی اور حفاظتی معائنے سے متعلق ہے کہ این او سی جاری کرنے سے قبل جھولوں کا فٹنس سرٹیفکیٹ چیک کیا گیا یا نہیں، جبکہ جھولوں کا ٹیکنیکل سیفٹی معائنہ کس ادارے یا ماہر نے کیا، اس بارے میں بھی وضاحت سامنے آنی چاہیے۔
مقامی صحافی میاں کاشف کے مطابق شہباز خان روڈ پر لگنے والے جھولوں کا این او سی چیف آفیسر میونسپل کمیٹی خواجہ کامران نے 15 اگست 2026 کو جاری کیا، تاہم ان کے مطابق چیف آفیسر خود ہی اس معاملے سے لاعلم نکلے۔
میاں کاشف نے اس صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے متعلقہ حکام سے وضاحت اور معاملے کی شفاف جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
نوٹ: خبر میں اٹھائے گئے سوالات مقامی صحافی میاں کاشف کی جانب سے کے فور قصور کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق ہیں۔ متعلقہ انتظامیہ یا پروگرام منتظمین کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
