
چونیاں مبینہ ریپ کیس میں نیا موڑ، شیخ فیصل کی بے گناہی کے دعوے، تحقیقات اور سوشل میڈیا پر اٹھنے والے سوالات
قصور (چونیاں): تھانہ سٹی چونیاں میں درج مبینہ ریپ کیس (مقدمہ نمبر 655/26) میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک مقامی کاروباری شخصیت شیخ فیصل اور ان کی اہلیہ کو مقدمے میں نامزد کیے جانے کے معاملے پر مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مقامی ذرائع اور عوامی حلقوں کے مطابق متاثرہ لڑکی سے منسوب بیانات میں کہا گیا ہے کہ اس نے اپنے ابتدائی بیان میں صرف مرکزی ملزم ندیم کا ذکر کیا تھا اور شیخ فیصل یا ان کی اہلیہ کو واقعے سے غیر متعلق قرار دیا۔ تاہم، اس دعوے کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق شیخ فیصل کے اہلِ خانہ اور مقامی افراد کا مؤقف ہے کہ انہیں بلاجواز مقدمے میں شامل کیا گیا، جس سے خاندان کی ساکھ متاثر ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ شیخ فیصل کی اہلیہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں اور مقدمے میں نامزد کیے جانے سے خاندان کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب، اس کیس کے حوالے سے رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے بھی ابتدائی معلومات کی بنیاد پر سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی تھی، جس میں شیخ فیصل کی گرفتاری کا ذکر کیا گیا۔ بعد ازاں مقامی حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ ابتدائی معلومات مکمل یا درست نہیں تھیں، جس کے باعث سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بحث شروع ہو گئی۔ تاہم حنا پرویز بٹ کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔
مقامی سماجی اور عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور آر پی او شیخوپورہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ اگر کسی بے گناہ شخص کو مقدمے میں شامل کیا گیا ہے تو اسے انصاف فراہم کیا جا سکے، جبکہ اصل ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
واضح رہے کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ اداروں کی حتمی رپورٹ یا عدالتی فیصلہ سامنے آنا باقی ہے۔ اس خبر میں شامل بعض دعوے متعلقہ فریقین اور مقامی ذرائع سے منسوب ہیں، جن کی سرکاری سطح پر مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔
