
قصور پولیس نے 9 ماہ بعد 70 سالہ خاتون کے اغوا و قتل کا معمہ حل کرنے کی تفصیلات جاری کر دیں
قصور: یکم اگست 2026ء کو قصور پولیس نے 70 سالہ سرداراں بی بی کے اغوا اور قتل کے مقدمے سے متعلق تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 9 ماہ قبل درج ہونے والے مقدمے کا معمہ حل کر لیا گیا ہے۔
قصور پولیس کے مطابق تھانہ صدر پھولنگر پولیس نے پیشہ ورانہ تفتیش کے ذریعے کیس کو ٹریس کرتے ہوئے مقتولہ کے دو سگے بھتیجوں، عمران اور شان علی کو گرفتار کیا۔
پولیس کے مطابق نتھے جاگیر کی رہائشی، غیر شادی شدہ 70 سالہ سرداراں بی بی کے اغوا کا مقدمہ ان کے بھائی رشید کی مدعیت میں تقریباً 9 ماہ قبل درج کیا گیا تھا، جس کے بعد خاتون کی تلاش کے لیے ایس پی انویسٹی گیشن محمد ضیاء الحق کی سربراہی میں اور ایس ایچ او اسلم بھٹی پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔
قصور پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران پولیس ٹیم نے سرچ آپریشن کیے، مقامی افراد سے پوچھ گچھ کی، مختلف ہسپتالوں اور دیگر مقامات پر معلومات حاصل کیں، تاہم ابتدائی طور پر کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
بعد ازاں پولیس کو شبہ گزرنے پر مقتولہ کے بھتیجوں سے مزید پوچھ گچھ کی گئی، جس دوران پولیس کے مطابق دونوں ملزمان نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ انہوں نے جائیداد کے تنازع پر اپنی پھوپھی کو دوپٹے سے گلا دبا کر قتل کیا اور بعد ازاں لاش کو اپنے ہی گھر کے صحن میں دفن کر دیا تھا۔
قصور پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی نشاندہی پر لاش برآمد کر لی گئی ہے، جبکہ دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے مزید قانونی کارروائی اور تفتیش جاری ہے۔
قصور پولیس کے مطابق ڈی پی او آفتاب احمد پھلروان نے اندھے قتل اور اغوا کے اس مقدمے کو ٹریس کرنے پر تھانہ صدر پھولنگر پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ لالچ اور ذاتی مفادات معاشرتی رشتوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جبکہ محبت، رواداری اور برداشت جیسے اقدار کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نوٹ: یہ تفصیلات یکم اگست 2026ء کو قصور پولیس کی جانب سے جاری کی گئی ہیں۔ مقدمہ زیرِ تفتیش ہے، لہٰذا ملزمان سے متعلق الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔
