
چھانگا مانگا میں غیر قانونی شکار، اقربا پروری اور میرٹ کی پامالی؟ ڈاکٹر وقاص اے خان کی تحقیقی رپورٹ میں سنگین الزامات
قصور: چھانگا مانگا وائلڈ لائف ریزرو سے متعلق ایک تحقیقی رپورٹ میں محکمہ جنگلات و وائلڈ لائف پنجاب کے بعض افسران پر غیر قانونی شکار، اقربا پروری، میرٹ کی خلاف ورزی اور انتظامی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
یہ رپورٹ ڈاکٹر وقاص اے خان ایڈووکیٹ کی جانب سے جاری کی گئی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چھانگا مانگا وائلڈ لائف ریزرو میں غیر ملکیوں کو مبینہ طور پر غیر قانونی شکار کروایا گیا، جبکہ واقعہ سامنے آنے کے بعد اصل ذمہ داران کے بجائے نچلے درجے کے ملازمین کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ محکمہ وائلڈ لائف میں بعض اہم تعیناتیاں سینئرٹی اور میرٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے کی گئیں، جبکہ چھانگا مانگا واقعے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
ڈاکٹر وقاص اے خان نے اپنی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ پنجاب پروٹیکٹڈ ایریاز ایکٹ 2020 کے تحت محفوظ علاقے میں غیر قانونی شکار کی صورت میں ایف آئی آر درج کرنا قانونی تقاضا ہے اور صرف محکمانہ کارروائی کافی نہیں۔
رپورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری فارسٹ اینڈ وائلڈ لائف اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور میرٹ کے برعکس ہونے والی تعیناتیوں کا جائزہ لیا جائے۔
واضح رہے کہ یہ تمام الزامات اور مؤقف ڈاکٹر وقاص اے خان کی جاری کردہ تحقیقی رپورٹ پر مبنی ہیں۔ محکمہ جنگلات و وائلڈ لائف پنجاب یا دیگر متعلقہ حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔ سرکاری مؤقف موصول ہونے پر اسے بھی خبر میں شامل کیا جائے گا تاکہ تمام پہلو قارئین کے سامنے آ سکیں۔
