
اردو عنوان:لیسکو ملازمین کی آمدن و اثاثوں کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں: منیحہ صابر علی بابر
لیسکو کے چیف سے لے کر نیچے تک A ٹو Z تمام ملازمین کی آمدن اور اثاثوں کی صاف شفاف تحقیقات بذریعہ نیب یا FIA کروا کر دیکھ لیں، آپ کو اندازا ہو جائے گا کہ اربوں نہیں، کھربوں روپے کی ریکوریاں ہو سکتی ہیں۔
جیسا کہ آپ نے الہ آباد میں واپڈا اہلکاروں کی نااہلی سے 7 سالہ ننھے حسنین وقاص کے بازو کٹنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کرپٹ لیسکو اہلکاروں کی کرپشن، نااہلی، طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، لائن لاسز پورے کرنے کے لیے عام صارفین کو طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سامنا کروانا، غلط اور زائد بلوں کو درست کرنے عوض رقم طلب کرنا اور بجلی چوری کے جھوٹے مقدمات اور خواتین کو ہراساں کرنا اور شکایت کرنے والے شہری کے خلاف انتقامی کارروائی کرنا، تاریں بدلنے کی رشوت، ٹرانسفارمر لگانے یا مرمت کرنے کی رشوت، نیا میٹر لگانے کی رشوت، گھروں پر مبینہ چھاپے، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی خلاف ورزی کرنا، ایک شخص کی مبینہ غلطی کی سزا پورے علاقے یا گاؤں کے شہریوں کو دینا، یہ سب بالکل درست ہے، مگر کس نے کتنی کرپشن کی، یہ آپ کے سامنے روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گا۔
آپ زیادہ دور نہ جائیں، آپ صرف ہمارے شہر کھڈیاں خاص کے واپڈا کے ملازمین کو ہی لے لیں، سارا ملک چھوڑ دیں، ان کی آمدن اور اثاثوں کی صاف شفاف تحقیقات کروا لیں کہ ان کے پاس نوکری سے پہلے کیا تھا اور اب کیا کیا ہے، آپ یہ سب دیکھ کر حیران ہو جائیں گے۔ کھڈیاں خاص کے لیسکو دفتر کی انکوائری کروائی جائے تو کرپشن کے ریکارڈ، انکشاف سامنے آنے کی قوی امید ہے۔
منیحہ صابر علی بابر
