
قصور: کم عمری کی شادی کے خلاف پولیس کا بڑا ایکشن، دلہا سمیت تین افراد گرفتار
قصور: ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان کی ہدایت پر تھانہ سٹی پتوکی پولیس نے ایس ایچ او ذوالفقار علی بھٹی کی سربراہی میں کم عمری کی شادی کے معاملے پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے دلہا سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا۔
قصور پولیس کے مطابق پروین نامی خاتون نے تھانہ سٹی پتوکی میں درخواست دی کہ وہ گھروں میں کام کرتی ہے اور اس کی تقریباً 16 سالہ بیٹی مریم کا ذیشان نامی شخص نے والدین کی غیر موجودگی میں مبینہ طور پر زبردستی نکاح کر لیا۔
پولیس کے مطابق درخواست موصول ہونے پر فوری مقدمہ درج کیا گیا اور دلہا ذیشان، نکاح خواں قاری صدیق اور گواہ کامران کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف کم عمری کی شادی کروانے کے الزام میں ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان نے واضح کیا کہ کم عمری کی شادی ایک سنگین قانونی جرم ہے اور بچوں کے حقوق و مستقبل سے کھیلنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
قصور پولیس کی جانب سے بروقت کارروائی کو بچوں کے تحفظ اور قانون کی عملداری کے حوالے سے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
